
مغلظّاتِ ُاردو
کہا جاتا ہے کہ داغ دہلوی ایک بار محبوبہ سے ملاقات کے لئے طے شدہ مقام پر پہچے تو موصوفہ نے
دیوار کی اوٹ سے دال ماش جنابِ داغ کی سمت پھینکے۔ اُستاد نے، کہ رمز شناس و موقع شناس تھے، فوراً
موقع سے چلتا کیےِ۔
آپ کےایک شاگرد نے کہ معاملات عشق و محبت سے نا آشنا تھا پوچھا کہ حضور یہ دال کا کیا قصّہ
ہے۔ جنابِ داغ کہ دلِ داغدار رکھتے تھے یوں گویا ہوئے کہ ارے احمق! ماش کو اُلٹا کرو تو کیا بنتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ داغ دہلوی ایک بار محبوبہ سے ملاقات کے لئے طے شدہ مقام پر پہچے تو موصوفہ نے
دیوار کی اوٹ سے دال ماش جنابِ داغ کی سمت پھینکے۔ اُستاد نے، کہ رمز شناس و موقع شناس تھے، فوراً
موقع سے چلتا کیےِ۔
آپ کےایک شاگرد نے کہ معاملات عشق و محبت سے نا آشنا تھا پوچھا کہ حضور یہ دال کا کیا قصّہ
ہے۔ جنابِ داغ کہ دلِ داغدار رکھتے تھے یوں گویا ہوئے کہ ارے احمق! ماش کو اُلٹا کرو تو کیا بنتا ہے۔
شام۔ درحقیقت یہ اس بات کا اشارا تھا کہ میاں وقت ملاقات کےلئے موزوں نھیں۔ شام کو آنا۔
تو صاحبو! اس تھوڑا لکھے کو بہت جانئے اور سر دُھنئے جنابِ داغ پر

0 comments:
Post a Comment